Thursday, 2 March 2017

ملکیت متعین ہونی چاہئیں


=================
حضور اقدس کی تعلیم یہ ہے کہ معاملات چاہے بھائیوں کے درمیان ہوں ، باپ بیٹے کے درمیان ہوں ، شوہر اور بیوی کے درمیان ہوں ۔وہ معاملات بالکل صاف اور بے غبار ہونے چاہئیں اور ان میں کوئی غبار نہ ہونا چاہیے ۔ اور ملکیتیں آپس میں متعین ہونی چاہئیں کہ کونسی چیز باپ کی ملکیت ہے اور کونسی چیز بیٹے کی ملکیت ہے ۔ کونسی چیز شوہر کی ملکیت ہے اور کونسی چیز بیوی کی ملکیت ہے۔ کونسی چیز ایک بھائی کی ہے اور کونسی چیز دوسرے بھائی کی ہے ۔یہ ساری بات واضح اور صاف ہونی چاہیے ،یہ نبی کریم کی تعلیم ہے ۔ چنانچہ اہل عرب کا محاورہ ہے ۔ تعاشرواکالاخوان ، تعاملو ا کالا جانب یعنی بھائیوں کی طرح رہو ،لیکن آپس کے معاملات اجنبیوں کی طرح کرو۔ مثلاً اگر قرض کا لین دین کیا جارہا ہے تو اس کو لکھ لو کہ یہ قرض کا معاملہ ہے ، اتنے دن کے بعد اس کی واپسی ہوگی ۔
آج ہمارا معاشرہ اس بات سے بھرا ہواہے کہ کوئی بات صاف ہی نہیں ۔ اگر باپ بیٹوں کے درمیان کاروبار ہے تو وہ کاروبار ویسے ہی چل رہاہے ، اس کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ بیٹے کے ساتھ جو کام کررہے ہیں وہ آیا شریک کی حیثیت میں کررہے ہیں ، یا ملازم کی حیثیت میں کررہے ہیں ، یا ویسے ہی باپ کی مفت مدد کررہے ہیں ، اس کا کچھ پتہ نہیں مگر تجارت ہورہی ہے ، ملیں قائم ہو رہی ہیں ،دکانیں بڑھتی جارہی ہیں ، مال اور جائیداد بڑھتا جارہاہے ۔ لیکن یہ پتہ نہیں ہے کہ کس کا کتناحصہ ہے ۔ اگر ان سے کہا بھی جائے کہ اپنے معاملات کو صاف کرو، تو جواب یہ دیا جاتاہے کہ یہ تو غیرت کی بات ہے ۔ بھائیوں بھائیوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے ؟ یا باپ بیٹوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے ؟اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب شادیاں ہو جاتی ہیں اور بچے ہوجاتے ہیں اور شادی میں کسی نے زیادہ خرچ کر لیا اور کسی نے کم خرچ کیا ۔ یا ایک بھائی نے مکان بنا لیا اور دوسرے نے ابھی تک مکان نہیں بنایا ۔ بس اب دل میں شکایتیں اور ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہونا شروع ہو گیا ، اور اب آپس میں جھگڑے شروع ہوگئے کہ فلاں زیادہ کھا گیا اور مجھے کم ملا ۔ اور اگر اس دوران باپ کا انتقال ہو جائے تو اس کےبعد بھائیوں کےدرمیان جو لڑائی اور جھگڑے ہوتے ہیں وہ لامتناہی ہوتے ہیں ، پھر ان کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہوتا

Tuesday, 21 February 2017

اتنے نازک ھیں۔۔


رُکو تو تم کو بتائیں، وہ اتنے نازک ہیں

کلی اَکیلے اُٹھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

کہا طبیب نے ، گر رَنگ گورا رَکھنا ہے
تو چاندنی سے بچائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ بادلوں پہ کمر ’سیدھی رَکھنے کو سوئیں
کرن کا تکیہ بنائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ نیند کے لیے شبنم کی قُرْص بھی صاحب
کلی سے پوچھ کے کھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

بدن کو دیکھ لیں بادل تو غسل ہو جائے
دَھنک سے خشک کرائیں، وہ اتنے نازک ہیں

سیاہی شب کی ہے چشمِ غزال کو سُرمہ
حیا کا غازہ لگائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ دو قدم چلیں پانی پہ ، دیکھ کر چھالے
گھٹائیں گود اُٹھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

کلی جو چٹکے تو نازُک ترین ہاتھوں سے
وُہ دونوں کان چھپائیں، وہ اتنے نازک ہیں
سریلی فاختہ کُوکے جو تین مُلک پرے
شکایت اُس کی لگائیں، وہ اتنے نازک ہیں

پسینہ آئے تو دو تتلیاں قریب آ کر
پروں کو سُر میں ہلائیں، وہ اتنے نازک ہیں

ہَوائی بوسہ دِیا پھول نے ، بنا ڈِمپل
اُجالے ، جسم دَبائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ گھپ اَندھیرے میں خیرہ نگاہ بیٹھے ہیں
اَب اور ہم کیا بجھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ گنگنائیں تو ہونٹوں پہ نیل پڑ جائیں
سخن پہ پہرے بٹھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ زیورات کی تصویر ساتھ رَکھتے ہیں
یا گھر بلا کے دِکھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

کبوتروں سے کراتے تھے بادشاہ جو کام
وُہ تتلیوں سے کرائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ پانچ خط لکھیں تو ’’شکریہ‘‘ کا لفظ بنے
ذِرا حساب لگائیں، وہ اتنے نازک ہیں
گواہی دینے وُہ جاتے تو ہیں پر اُن کی جگہ
قسم بھی لوگ اُٹھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

بس اِس دلیل پہ کرتے نہیں وُہ سالگرہ
کہ شمع کیسے بجھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ سانس لیتے ہیں تو اُس سے سانس چڑھتا ہے
سو رَقص کیسے دِکھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

شراب پینا کجا ، نام جام کا سن لیں
تو جھوم جھوم سے جائیں، وہ اتنے نازک ہیں

نزاکت ایسی کہ جگنو سے ہاتھ جل جائے
جلے پہ خوشبو لگائیں، وہ اتنے نازک ہیں

گھروندے ریت سے ساحل پہ سب بناتے ہیں
وُہ بادلوں پہ بنائیں، وہ اتنے نازک ہیں

جلا کے شمع وُہ جب غُسلِ آفتاب کریں
سفیدی رُخ پہ لگائیں، وہ اتنے نازک ہیں

شکار کرنے کو جانا ہے ، کہتے جاتے ہیں
پکڑنے تتلی جو جائیں، وہ اتنے نازک ہیں

شکاریوں میں اُنہیں بھی جو دیکھیں زَخمی شیر
تو مر تو شرم سے جائیں، وہ اتنے نازک ہیں

اُٹھا کے لاتے جو تتلی تو موچ آ جاتی
گھسیٹتے ہُوئے لائیں، وہ اتنے نازک ہیں

کلی کو سونگھیں تو خوشبو سے پیٹ بھر جائے
مزید سونگھ نہ پائیں، وہ اتنے نازک ہیں

غلام چٹکی نہ سننے پہ مرتے مرتے کہیں
خدارا تالی بجائیں، وہ اتنے نازک ہیں

نکاح خوان کو بس ’’ایک‘‘ بار وَقتِ قُبول
جھکا کے پلکیں دِکھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

ہر ایک کام کو مختارِ خاص رَکھتے ہیں
سو عشق خود نہ لڑائیں، وہ اتنے نازک ہیں

اُتار دیتے ہیں بالائی ، سادہ پانی کی
پھر اُس میں پانی ملائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ دَھڑکنوں کی دَھمک سے لرزنے لگتے ہیں
گلے سے کیسے لگائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وُہ سیر ، صبح کی کرتے ہیں خواب میں چل کر
وَزن کو سو کے گھٹائیں، وہ اتنے نازک ہیں

وَزن گھٹانے کا نسخہ بتائیں کانٹوں کو
پھر اُن کو چل کے دِکھائیں، وہ اتنے نازک ہیں

Wednesday, 1 June 2016

ڈھیلا ڈھالا تعلق

ڈھیلا ڈھالا تعلق  ،

 تیل میں  جب تک پانی رھتا ھے وہ پٹاخے چھوڑتا رھتا ھے ، تیل میں ڈالی جانے والی چیز  میں جب تک نمی رھتی ھے تیل بھی شُر شُر کرتا رھتا ھے - جب پانی اور نمی ختم  ھو جاتے ھیں تو تیل پہ بھی سکون چھا جاتا ھے اور اس میں ڈالی جانے والی  چیز بھی جل جاتی ھے مگر آواز نہیں نکالتی -
 گرمئ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ھیں،،
 ھم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ھیں ،،
 شمع جس آگ میں جلتی ھے نمائش کے لیے -
 ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں -
 خود نمائی تو نہیں شیوہءِ اربابِ وفا ،،،
 جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں -
 جب تک بندے میں انا باقی رھتی ھے گلے شکوے رھتے ھیں -
  جب انا مر مٹ جاتی ھے تو گلے شکوے بھی ختم ھو جاتے ھیں- اور مصائب و آلام  مزہ دینے لگ جاتے ھیں - انا صرف ایک ھی چیز سے مرتی ھے اس کے علاوہ اس پر  کوئی چیز اثر نہیں کرتی ، اور وہ ھے محبت اور صرف محبت ، محبت جتنی زیادہ  ھو گی انا اتنی گہری دفن ھو گی انا جتنی گہری دفن ھو گی محبت اُتنی زیادہ  سے زیادہ ھوتی چلی جائے گی،،انا دفن ھو کر کھاد کا کام کرتی ھے ، پھر ایک  ایسا وقت آتا ھے کہ آفت اور بلا اس محبت کی محبوب خوارک بن جاتی ھے ، جس  قدر آفات برستی ھیں اسی قدر دل سکون محسوس کرتا ھے کہ میرا محبوب میرے ساتھ  انوالو ھے ،، اسے میرا خیال ھے ، بے شک مصیبت بھیجے مگر مجھے سوچتا ضرور  ھے ،،

 علامہ عامر عثمانی اس کیفیت کو یوں بیان کرتے ھیں ؔ
 عشق کے مراحل میں وہ بھی مقام آتا ھے -
 آفتیں برستی ھیں ، دل سکون پاتا ھے -
 مشکلیں اے دل ، سخت ھی سہی لیکن -
 یہ نصیب کیا کم ھے کہ کوئی آزماتا ھے
 -
 جبکہ صوفی شاعر اسے یوں بیان کرتے ھیں ؎
 تن میرا جے کنگھی ھووے ، میں یار دی زلفاں واہواں -
 پوش میری دی جُتی بن جائے، میں یار دے قدمیں جانواں -
 جے سوھنڑاں میرے دُکھ وچ راضی -
 تے میں سُکھ نوں چُلہے لانواں
 -
 میاں محمد بخش فرماتے ھیں کہ ؎
 جنہاں دکھاں تے دلبر راضی، سکھ انہاں توں وارے -
دکھ قبول محمد بخشا، راضی رھن پیارے -

  یہی وہ وقت ھوتا ھے کہ امتحان اٹھا لئے جاتے ھیں اور پھر خالقِ حقیقی اس  بندے کے کام خود بنانے لگ جاتا ھے ،، مگر وہ بندہ دُکھ اور آزمائش کے لئے  یوں ھی تڑپتا ھے جیسے ھیروئین کا نشئ نشہ ٹوٹنے پہ تڑپتا ھے - اللہ اس کو  بہلانے کو کئ انعامات سے نوازتا ھے مگر وہ نفس کو بھانے والی ان چیزوں کی  بجائے رب سے کچھ اور ھی مانگتا ھے اور ان کو نظر بھر کر بھی نہیں دیکھتا وہ  رب کی معیت چاھتا ھے - جس طرح بچہ آپ کے ساتھ شہر جانے کی ضد کرے اور تو  آپ اسے بہلانے کے لئے بن مانگے قسم قسم کے کھلونوں اور وعدے وعید کے ذریعے  بہلانے کی کوشش کرتے ھیں کہ وہ ان میں بہل کر آپ کے ساتھ جانے کی ضد چھوڑ  دے -

 مگر یہاں تو کوئی اور ھی منظر ھے؎
 آنکس که ترا شناخت جان را چه کند؟
 فرزند و عیال و خانمان را چه کند؟
 دیوانه کنی هردو جهانش بخشی
 دیوانۀ تو هر دو جهان را چه کند ؟
 
اے اللہ جس بندے نے تجھ (جانیں پیدا کرنے والی ھستی ) کو پہچان لیا ھے وہ  بھلا تیری طلب کے مقابلے میں اپنی جان کی پسند ناپسند کو اھمیت کیوں دے گا ؟
 وہ اپنی اولاد، رشتے داروں اور خاندان کیا کیا کرے گا ؟
 اپنا دیوانہ بنا کر دو جہان ھاتھ میں پکڑا دیتے ھو ،،
 تمہی بتاؤ تیرے جیسی ھستی کا طالب بھلا دو جہاں کا کیا کرے گا ؟
 
غالباً مفتی شفیع صاحب کے بارے میں مولانا تقی عثمانی صاحب نے لکھا ھے کہ  ان کے ایک دوست ڈاکٹر نے ان سے کہا کہ میں آپ کے بدن میں بجلی داخل کرتا  ھوں ،، ان کو کرسی پہ بٹھا دیا گیا اور مختلف تاریں ان کے بدن کو جوڑ کر  ڈاکٹر نے ان کو چارج کرنا شروع کیا اور ساتھ بتاتا گیا کہ مفتی صاحب اتنی  بجلی آپ کے بدن میں داخل ھو گئ ھے ،،مفتی صاحب فرماتے ھیں کہ مجھے بھی اپنے  بدن میں کسی خارجی چیز کا وجود محسوس ھوا اور بدن نے بےچینی محسوس کی ،،  اس کے بعد ڈاکٹر نے ایک بندے سے کہا کہ ان کو چھو کر دیکھو ، جونہی اس بندے  نے مفتی صاحب کو ٹچ کیا ایک شعلہ سا نکلا اور پٹاخے کی سی آواز آئی ،مفتی  صاحب فرماتے ھیں کہ مجھے بھی تکلیف محسوس ھوئی اور چھونے والے نے بھی جھٹکا  محسوس کیا ،،پھر ڈاکٹر نے اس سے کہا کہ اب مضبوطی کے ساتھ ان کے ھاتھ پکڑ  لو ، اس بندے نے مضبوطی کے ساتھ میرے ھاتھ پکڑ لئے نہ مجھے تکلیف ھوئی اور  نہ اس بندے کو ،، پھر ایک تیسرے بندے سے کہا کہ تم اس دوسرے آدمی کو ٹچ کرو  ،، اس نے جونہی دوسرے آدمی کو ٹچ کیا پھر وھی ھلکا سا پٹاخہ چھوٹا اور  تیسرے آدمی کے ساتھ ساتھ مفتی صاحب اور دوسرے آمی کو بھی تکلیف محسوس ھوئی -  اسے کہا کہ اب مضبوطی سے پکڑ لو ، مضبوطی سے پکڑنے پر نہ کوئی اسپارک ھوا  اور نہ  ھی کوئی تکلیف ھوئی ،،
 کونیکشن لوز ھو تو گرم تار نہیں  ٹھنڈی تار یعنی نیگیٹو والی بھی اسپارک کرتی اور پؤائنٹ کو جلا دیتی ھے ،،  دین اور ایمان کے ساتھ کونیکشن لوز ھو تو چھوٹی چھوٹی مشکلوں پہ ھی لوگ  ایمان چھوڑ کر فارغ ھو جاتے ھیں کجا یہ کہ کسی بڑی مصیبت پر استقامت کا  ثبوت دیں ،،
 بھوک نہ ھو تو روٹی بھی وبال بن جاتی ھے ،
 محبت نہ ھو تو ایمان بھی بوجھ بن جاتا ھے،
 
مگر جب تعلق صرف چھونے تک محدود نہ ھو بلکہ آگے بڑھ کر بدن اور روح والا  تعلق بن جائے تو پھر فرشتے دنیا میں ھی نازل ھو کر خوشخبریاں دینا شروع ھو  جاتے ھیں ،
 بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ھمارا رب اللہ ھے ، پھر اس پر ڈٹ  گئے نازل ھوتے ھیں ان پر فرشتے کہ مت غم کھاؤ اور نہ ھی ڈرو اور بشارت لو  ھم سے اس جنت کی جس کا وعدہ تم سے کیا گیا ھے ،ھم دنیا میں بھی تمہارے دوست  ھیں اور آخرت میں بھی ھونگے ، اور اس جنت میں ھر وہ چیز ھو گی جس کی چاھت  تمہاری جانوں کو ھو گی اس کے باوجود اور بھی جو تم مانگو گے تمہیں ملے گا ،  یہ مہمانی ھو گی بخشنے والے رب رحیم کی طرف سے ،، ( فصلت- 30-31-32 )

  بس یہی دین اور ایمان کا پراسیس ھے ،جب تک انسان ایمان کے ساتھ بس ٹچ کرنے  کا تعلق رکھتا ھے ،، مضبوطی کے ساتھ اس کو اپناتا نہیں ،، جب تک ایمان کے  ساتھ کنکشن لوز رھتا ھے ،ھر آزمائش پہ پٹاخے چھوٹتے رھتے ھیں اور بندہ  تکلیف محسوس کرتا رھتا ھے ،، مصیبتوں نے تو ھمیں رات دن چھو چھو کر دیکھنا  ھی ھے کیونکہ ان کو حکم ھے کہ اس بندے کا کنکشن چیک کرتی جاؤ ،،، لوز ھے یا  ٹائٹ ھے

]

Tuesday, 1 July 2014

ﭼﻠﺌﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ..



  1. ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺷﮩﺮﯼ ﮐﯽ
    ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ
    ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ
    ﮬﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺟﺘﻨﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ
    ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺎ ﻭﮦ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﮐﻮ
    ﺍﻻﭦ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ
    ﺩﺍﺋﺮﮦ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺭﺝ
    ﻏﺮﻭﺏ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ...
    ﻣﻠﮯ ﮔﺎ..

    ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﭼﻼ ﭘﮍﺍ..
    ﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻇﮩﺮ ﮬﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ
    ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﭼﮑﺮ
    ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮬﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ
    ﻻﻟﭻ ﻧﮯ ﻏﻠﺒﮧ ﭘﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ
    ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺳﮯ ﭼﮑﺮ ﮐﺎﭦ
    ﻟﻮﮞ.. ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ
    ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ
    ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ
    ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ
    ﭼﺎﮬﺌﮯ..

    ﺍﻟﻐﺮﺽ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ
    ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ.. ﺍﺏ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻣﯿﮟ
    ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﻧﮯ ﺍﺱ
    ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﺎﺑﻘﺖ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ
    ﮬﮯ.. ﻭﮦ ﺟﺘﻨﺎ ﺗﯿﺰ ﭼﻠﺘﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ
    ﺳﻮﺭﺝ ﺑﮭﯽ ﺍُﺗﻨﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﮈﮬﻞ ﺭﮬﺎ
    ﮬﮯ.. ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﺳﻮﺭﺝ ﮈﮬﻠﻨﮯ
    ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﭘِﮕﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ
    ﮔﯿﺎ ﮬﮯ..
    ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ..
    ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ
    ﺟﺎﺗﺎ ﻧﻄﺮ ﺁ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ.. ﺍﺏ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ
    ﻻﻟﭻ ﮐﻮ ﮐﻮﺱ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺑﮩﺖ
    ﺩﯾﺮ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ.. ﺩﻭﮌﺗﮯ ﺩﻭﮌﺗﮯ
    ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮧ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﭘﮭﭩﺎ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ
    ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﺩﻭﮌﮮ ﺟﺎ
    ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ..

    ﺁﺧﺮ ﺳﻮﺭﺝ ﻏﺮﻭﺏ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻭﮦ
    ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮔﺮﺍ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ
    ﺳﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﺎﺭﭨﻨﮓ ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮐﻮ
    ﭼﮭﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ
    ﺩﺍﺋﺮﮮ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ..

    ﯾﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻻﺵ ﻧﮯ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﻣﮑﻤﻞ
    ﮐﺮ ﺩﯾﺎ..
    ﺟﺲ ﺟﮕﮧ ﻭﮦ ﮔﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺳﯽ ﺟﮕﮧ
    ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ
    ﮐﺘﺒﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ..
    "ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺑﺲ
    ﺍﺗﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺟﮕﮧ ﺗﮭﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺟﮕﮧ
    ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮬﮯ"!!__________

    ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﻑ
    ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﮬﮯ..
    "ﻭﺍﻟﻌﺼﺮ ' ﺍﻥ ﺍﻻﻧﺴﺎﻥ ﻟﻔﯽ ﺧﺴﺮ"..
    ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﮬﻮﮔﺌﮯ
    ﮨﯿﮟ!!___________

    "ﺍﻧﺎ ﻟﻠﮧ ﻭ ﺍﻧﺎ ﺍﻟﯿﮧ ﺭﺍﺟﻌﻮﻥ"..

    ﭼﻠﺌﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﺳﻮﭼﺘﮯ
    ﮨﯿﮟ.. ﺭﺏ ﺗﮏ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﻣﮑﻤﻞ ﮬﻮ
    ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺟﻨﺖ ﻭ ﻧﻌﯿﻢ..

    ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮬﻮ
    ﮔﺌﯽ ﺗﻮ "ﺧﺴﺮ ﺍﻟﺪﻧﯿﺎ
    ﻭﺍﻵﺧﺮﮦ!!

Wednesday, 25 June 2014

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ​


قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
  
ا ب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ 

اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے
شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
رزق، ملبوس ، مکاں، سانس، مرض، قرض، دوا
منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ
دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن
آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ

Monday, 30 September 2013

مسعود ظفر علاء الدین

زلف بکھری جو ان کے شانے پر
ہوش بھی نہ رہا ٹھکانے پر

میں تو بکھرا تھا مثل سنگریزہ
شوخ نظروں کے تازیانے پر

آرزو تھی کہ ہم بھی گائیں گے
یاں تو بندش ہے گنگنانے پر

ہم نے سوچا تھا عشق کرتے ہیں
آگئی عقل اب ٹھکانے پر

کلام ۔ بابا بُلھے شاہ

چَڑھدے سورج ڈَھلدے ویکھے
بُجھے دِیوے بَلدے ویکھے
ہِیرے دا کوئی مُل نہ تارے
کھوٹے سِکے چَلدے ویکھے
جِنّاں دا نہ جَگ تے کوئ
اَو وی پُتر پَلدے ویکھے
اوہدی رحمت نال بندے
پانی اُتّے چَلدے ویکھے
لَوکی کہندے دال نئیں گَلدی
میں تے پَتھّر گَلدے ویکھے
جِنھاں قَدر نہ کیتی یار دی بُلھیا
ہَتھ خالی اَو مَلدے ویکھے 

Sunday, 22 September 2013

غزل از ڈاکٹر جاوید جمیل

الطاف کی بارش ہے گمراہ شریروں پر
طوفاں ہیں مصائب کے نیکی کے سفیروں پر

جب زیست میں آئے گا، دیکھے گا تعجب سے
بیٹھا ہوں تری خاطر الفت کے ذخیروں پر

رہتا ہوں تخیل میں سائے میں ستاروں کے
لکھی ہے مری قسمت شنبنم کی لکیروں پر

بے نام غریبوں کی پروا ہے یہاں کس کو
انعام برستے ہیں بد نام امیروں پر

منزل ہے فقط انکی خود اپنی ہوس پرسی
پھر کیسے بھروسہ ہو ان جیسے مشیروں پر

نفرت کی نففسیات

اشتہار میں اُس عورت کی تصویر دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا۔ بےاختیار میری زبان سے نکلا: گندی غلیظ عورت‘‘، وہ پورے جوش سے اپنی بات بیان کررہے تھے جسے میں خاموشی سے سن رہا تھا۔ مگر اس جملے کے بعد وہ لمحہ بھر ٹھہرے اور مجھے دیکھتے ہوئے بولے:
’’پھر اچانک مجھے آپ کی تحریروں کا خیال آیااور بے ساختہ میری زبان سے نکلا: پروردگار اسے ہدایت دے۔ یہ خاتون نہیں جانتی کہ یہ چند پیسوں کے لیے کیا کررہی ہے۔‘‘
یہ صاحب مجھے اپنے رویے میں آنے والی تبدیلی کی داستان سنارہے تھے۔ معاشرے میں پھیلتے فواحش سے یہ بہت نالاں تھے اور میڈیا کو اس کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ جس خاتون کا وہ ذکر کررہے تھے وہ ملک کی ایک معروف ٹی وی اداکارہ اور ماڈل تھی۔ یہ خاتون ٹی وی پروگراموں اور اشتہارات میں خواتین کے لباس کے حوالے سے کئی نامناسب رویے متعارف کرانے میں پیش پیش تھی۔ ایک شاپنگ سنٹر میں انہوں نے اس کا ایک اشتہار دیکھا اور وہیں غصے اور جذبات میں ان کے منہ سے وہ جملہ نکلا جو شروع میں نقل کیا گیا ہے۔
ان کی بات میں وقفہ آیا تو میں نے وضاحت چاہی کہ یک بیک آنے والی اس تبدیلی کی وجہ کیا تھی۔ انہوں نے جواب دیا:
’’بات یہ ہے کہ میں پہلے اپنے سابقہ خیالات کے تحت ایسے لوگوں سے نفرت کرتاتھا۔ میں پورے دینی جذبے کے ساتھ ان کو اسلام دشمن اور قابل گردن زدنی قرار دیتا تھا۔ مگر آپ کی تحریریں پڑھ کر احساس ہونا شروع ہوا کہ نفرت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں۔ یہاں تو دعوت دی جاتی ہے۔ تربیت کی جاتی ہے۔ صحیح بات بتائی جاتی ہے۔ لوگ نہ مانیں تب بھی ان سے مایوس نہیں ہوا جاتا۔ ان کے لیے دعا کی جاتی ہے اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘‘
وہ ایک لمحے کے لیے رکے اور پھر بولے:
’’لیکن نفرت کرتے ہوئے ساری زندگی ہوگئی تھی۔ اس لیے عادت پڑچکی تھی۔ یہی اُس روز بھی ہوا۔میرے منہ سے بے ساختہ گندی غلیظ عورت کے الفاظ نکل گئے۔ مگر اگلے لمحے مجھے یہ سب یاد آگیا۔ اور پھر میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس عورت کے لیے بہت دعا کی۔‘‘
’’پہلے اور اب میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟‘، میں نے دریافت کیا۔

’’نفرت کی نفسیات سب سے زیادہ مجھے نقصان پہنچاتی تھی۔ وہ میرے جسم اور دماغ کو تو نقصان پہنچاتی ہی تھی، مگر میرے ایمان کو بھی بھسم کررہی تھی۔ مجھے یہ بات پہلی دفعہ اس روز معلوم ہوئی۔ کیونکہ جب میں نے ایک نفرت آمیز جملے کے بعد اس کے لیے دعا کرنی شروع کی تو میں نے اللہ تعالیٰ سے اتنی زیادہ قربت محسوس کی کہ کچھ حد نہیں۔ مجھے لگا کہ فرشتوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ مجھے زندگی میں پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جو لوگ رب کے نافرمان ہوتے ہیں، ان کی نافرمانی کے باوجود، اللہ تعالیٰ کے دل میں ان کے لیے بے پناہ محبت ہوتی ہے۔ مجھے پہلی دفعہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی کیفیات کیا ہوتی تھیں۔ وہ کس طرح لوگوں کے لیے تڑپتے تھے۔
مجھے نہیں پتہ کہ میری دعا سے وہ لڑکی راہ راست پر آئے گی یا نہیں۔ مگر اس روز میں نے اللہ، اس کے رسول اور اس کے فرشتوں کی قربت کا ایسا تجربہ کیا جس کے بعد مجھے معلوم ہوگیا کہ یہی صحیح راستہ ہے۔ یہی پیغمبروں کا راستہ ہے۔ یہی اللہ کا پسندیدہ طریقہ ہے۔‘‘
وہ چپ ہوئے تو میں نے کہا کہ آپ کا پاکیزہ تجربہ آپ کو بہت مبارک ہو۔ مگر میں اطمینان دلاتا ہوں کہ وہ لڑکی بھی راہ راست پر آجائے گی۔ وہ نہ بھی آئے تو آپ کی وجہ سے کئی اور لڑکیاں اس راہ پر چلنے سے رک جائیں گی۔ اس لیے کہ اللہ کو پکارنا کبھی ضائع نہیں جاتا۔

Tuesday, 30 July 2013

ںیرنگ خیال


وہ خط کے پرزے اُڑا رہا تھا
ہواؤں کا رخ دِکھا رہا تھا

بتاؤں کیسے وہ بہتا دریا
جب آ رہا تھا تو جا رہا تھا

کہیں مرا ہی خیال ہو گا
جو آنکھ سے گرتا جا رہا تھا

کچھ اور بھی ہو گیا نمایاں
میں اپنا لکھا مٹا رہا تھا

وہ جسم جیسے چراغ کی لَو
مگر دھواں دِل پہ چھا رہا تھا

منڈیر سے جھک کے چاند کل بھی
پڑوسیوں کو جگا رہا تھا

اسی کا ایماں بدل گیا ہے
کبھی جو میرا خدا رہا تھا

وہ ایک دن ایک اجنبی کو
مری کہانی سنا رہا تھا

وہ عمر کم کر رہا تھا میری
میں سال اپنا بڑھا رہا تھا

خدا کی شاید رضا ہو اس میں
اتمہارا جو فیصلہ رہا تھا 
بشکریہ  ںیرنگ خیال 

Sunday, 7 July 2013

عشق



جہیڑی عشق دی کھیڈ رچائی اے
اے میری سمجھ نا آئی اے
ویکھن نوں لگد ا سادا اے
اے عشق بڑا ای ڈھڈا اے
اے ڈھڈا عشق نچا دیوے
پیراں وچ چھالے پا دیوے
عرشاں دی سیر کر دیوے
اے رب دے نال ملا دیوے
چُپ رہ کے بندہ تَر جاندا
جے بولے سولی چڑھ جاندا
جہیڑا عشق سمندر ور جاندا
او جنیدا وسدا مر جاندا
ایس عشق توں کوئی وی بچیا نئیں
پر ہر اک وچ اے رچیا نئیں
ایس عشق سے کھیڈ نرالے نئیں
فقیراں ناں ایدے پالے نئیں
اے راتاں نوں جگا دیندا
اکھیاں وچ جھریاں لا دیندا
اے ہجر دی اگ وچ ساڑ دیندا
اے بندہ اندروں مار دیندا

بشکریہ ناعمہ عزیز


Sunday, 9 June 2013

غزل

کیسے کیسے خواب دیکھے، دربدر کیسے ہوئے
کیا بتائیں روز و شب اپنے بسر کیسے ہوئے

نیند کب آنکھوں میں آئی، کب ہوا ایسی چلی
سائباں کیسے اُڑے، ویراں نگر کیسے ہوئے

کیا کہیں وہ زُلفِ سرکش کس طرح ہم پر کھلی
ہم طرف دار ہوائے راہگُزر کیسے ہوئے

حادثے ہوتے ہی رہتے ہیں مگر یہ حادثے
اک ذرا سی زندگی میں، اس قدر کیسے ہوئے

ایک تھی منزل ہماری، ایک تھی راہِ سفر
چلتے چلتے تم اُدھر، اور ہم اِدھر کیسے ہوئ

خواب اُس کے ہیں جو چُرا لے جائے
نیند اُس کی ہے جو اُڑا لے جائے

زُلف اُس کی ہے جو اُسے چھولے
بات اُس کی ہے جو بنا لے جائے

تیغ اُس کی ہے شاخِ گُل اُس کی
جو اُسے کھینچتا ہوا لے جائے

یوں تو اُس پاس کیا نہیں پھر بھی
ایک درویش کی دعا لے جائے

زخم ہو تو کوئی دہائی دے
تیر ہو تو کوئی اُٹھا لے جائے

قرض ہو تو کوئی ادا کردے
ہاتھ ہو تو کوئی چُھڑا لے جائے

لَو دیے کی نگاہ میں رکھنا
جانے کس سمت راستہ لے جائے

دل میں آباد ہیں جو صدیوں سے
ان بُتوں کو کہاں خدا لے جائے

خواب ایسا کہ دیکھتے رہیے
یاد ایسی کہ حافظہ لے جائے

میں غریب الدّیار، میرا کیا
موج لے جائے یا ہَوا لے جائے

خاک ہونا ہی جب مقدّر ہے
اب جہاں بختِ نارسا لے جائے

Wednesday, 5 June 2013

ڈاکٹر کمار وشواس

ڈاکٹر کمار وشواس ہندی کے شاعر ہیں'  لہذا درج ذیل نظم میں کچھ الفاظ آپ کو ہندی کے بھی ملیں گیں )

کوئی دیوانہ کہتا ہے  کوئی پاگل سمجھتا ہے
مگر دھرتی کی بے چینی  کو بس بادل سمجھتا ہے
میں تجھ سے دور کیسا ہوں  تو مجھ سے دور کیسی ہے
یہ میرا دل سمجھتا ہے  یا تیرا دل سمجھتا ہے

محبت ایک احساسوں کی پاون سی کہانی ہے
کبھی  کبیرا   دیوانہ تھا   کبھی میرا دیوانی ہے
یہاں سب لوگ کہتے ہیں  میرے آنکھوں میں پانی ہے
جو تو سمجھے تو موتی ہے   جو نہ سمجھے تو پانی ہے

بہت بکھرا    بہت ٹوٹا    تھپیرے سہہ نہیں پایا
ہواؤں کے اشاروں پر مگر میں بہہ نہیں پایا
ادھورا     ان   سنا   ہی رہ گیا  یوں پیار کا قصہ
کبھی تم سن نہیں پائی   کبھی میں کہہ نہیں پایا

سمندر پیر   کا    اندر   ہے   لیکن رو نہیں سکتا
یہ آنسو  پیار کا موتی ہے  اس کو کھو نہیں سکتا
میری چاہت کو  اپنا تو  بنا لینا مگر سن لے
جو میرا ہو نہیں سکتا   وہ تیرا  ہو نہیں سکتا

بھنور کوئی کُمُدنی پر   مچھل جائے تو ہنگامہ
ہمارے دل میں کوئی خواب   پل جائے تو ہنگامہ
ابھی تک ڈوب   کر سنتے تھے سب قصہ محبت کا
میں قصے کو حقیقت میں  بدل بیٹھا تو ہنگامہ

میں جب  بھی تیز چلتا ہوں   نظارے چھوٹ جاتے ہیں
کوئی  جب روپ گھڑتا ہوں  تو   سانچے  ٹوٹ جاتے ہیں
میں روتا ہوں تو  لوگ آ کر تھپتھپاتے ہیں
میں ہنستا   ہوں تو  مجھ   سے لوگ  اکثر روٹھ جاتے ہیں

میں اس کا ہوں     وہ اس احساس سے انکار کرتا ہے
بھری محفل  میں بھی   رسوا   '   مجھے  ہر  بار کرتا ہے
یقیں ہیں ساری دنیا  کو   خفا ہے ہم سے وہ لیکن
مجھے معلوم ہے   پھر بھی   مجھ   ہی سے پیار کرتا ہے

کوئی  خاموش ہے  اتنا   بہانے بھول آیا ہوں
کسی کی اک ترنم میں   ترانے بھول آیا ہوں
میری  اب راہ مت تکنا کبھی اے آسماں والو
میں اک چڑیا  کی آنکھوں میں   اڑانیں بھول آیا ہوں

یہ دل برباد کرکے اس میں کیوں آباد   رہتے ہو
کوئی کل کہہ رہا تھا تم    الہ آباد   رہتے ہو
یہ   کیسی   شہرتیں مجھ کو عطا   کر دیں میرے مولا
میں سب کچھ بھول جاتا ہوں  مگر تم یاد رہتے ہو

پناہوں میں جو آیا ہو  تو اس پر وار کیا کرنا
جو دل ہارا ہوا ہو  اس پہ   پھر    ا دیھکار  کیا کرنا
محبت   کا مزہ تو  ڈوبنے کی کشمکش میں ہے
جو ہو معلوم   گہرائی تو  دریا پار کیا کرنا

نظر میں شوخیاں  لب پر   محبت کا ترانہ ہے
میری امید کی ذد میں   ابھی سارا زمانہ ہے
کئی جیتے ہیں  دل کے دیش  پر معلوم ہے مجھ کو
سکندر ہوں  مجھے ایک  روز کھالی ہاتھ جانا ہے

جب  آتا ہے  جیون  میں خیالاتوں کا  ہنگامہ
یہ  جذباتوں   ملاقاتوں  '  حسیں  راتوں  کا ہنگامہ
جوانی کی قیامت   دور میں یہ سوچتے ہیں سب
یہ ہنگاموں کی راتیں ہیں   یا ہے راتوں کا ہنگامہ

بتا ؤں   کیا مجھے  ایسے' سہاروں نے ستا یا ہے
ندی تو کچھ نہیں بولی'   کناروں نے ستا یا ہے
سدا ہی   شُول     میری   راہ سے' خود ہٹ گئے لیکن
مجھے تو ہر گھڑی ' ہر پل ' نظاروں نے ستایا ہے

تمہارے پاس ہوں لیکن '  جو دوری ہے سمجھتا ہوں
تمہارے بن میری ہستی ' ادھوری ہے سمجھتا ہوں
تمہیں میں بھول جاؤں گا ' یہ ممکن ہے نہیں لیکن
تم ہی کو بھولنا سب سے ' ضروری ہے سمجھتا  ہوں

کبھی کوئی جو کھل کر  ہنس لیا ' دو پل تو ہنگامہ
کوئی خوابوں  میں آ کر  بس لیا ' دو پل تو ہنگامہ
میں اس سے دور  تھا تو   شور تھا سازش ہے ' سازش ہے
اسے بانہوں میں کھل کر کس لیا   دو   پل تو ہنگامہ

ہمیں دل میں بسا کر اپنے گھر جائیں تو اچھا ہے
ہماری بات سن لیں  اور  ٹھر جائیں تو اچھا ہے
یہ ساری شام  جب  نظروں  ہی نظروں میں بِتا دی ہے
تو کچھ پل اور آنکھوں میں ' گزر  جائیں تو اچھا ہے

ہمارے شعر سن کر بھی ' جو خاموش اتنا ہے
خدا  جانے  غُرورِ حسن میں' مدہوش کتنا ہے
کسی پیالے نے پوچھا ہے ' صراحی سے سبب مے کا
جو خود بے ہوش ہو ، وہ کیا    بتائے ہوش کتنا ہے

سدا   تو دھوپ کے ہاتھوں  میں ہی  پرچم نہیں ہوتا
خوشی کے گھر میں بھی بولو' کبھی کیا غم نہیں ہوتا
فقط  ایک آدمی کے واسطے '  جگ چھوڑنے والو
فقط ایک آدمی سے یہ زمانہ   کم نہیں ہوتا

ہر   اک دریا کے ہونٹوں پر'  سمندر کا ترانہ ہے
یہاں ہر فرد کے  آ گے'  سدا   کوئی بہانہ ہے
وہی   باتیں   پرانی ہے '   وہی قصہ  پرانا ہے
تمہارے  اور میرے  بیچ  میں پھر سے زمانہ ہے

کہیں   پر   جگ   لئے  تم بن '   کہیں  پر سو لئے تم بن
بھری محفل  میں بھی اکثر '  اکیلے  ہو لئے تم  بن
یہ   پچھلے  کچھ سالوں  کی ' کمائی  ساتھ ہے اپنے
کبھی تو ہنس   لئے   تم   بن'  کبھی  پھر  رو   لئے  تم بن

Sunday, 26 May 2013

گدھا

گدھا اچھا بھلا عزت دار جانور تھا سامان ڈھوتا تھا، سواری کے کام آتا تھا، جنگوں تک میں حصہ لیا کرتا تھا کہ پنجابی زبان ایجاد ہو گئی اور گدھا "کھوتا" قرار پایا۔بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن سرائیکی نے تو حد ہی کردی۔کھوتے کو "گڈھیں" بنا دیا۔کبھی کسی سرائیکی بولنے والے سے گڈھیں سن کر دیکھیں، بندہ پانی پانی ہوجاتا ہے۔ گڈھیں سن کر گدھا بھی کہتا ہوگا اس ذلت سے تو اچھا تھا میں انسان ہو گیا ہوتا خواہ پاکستان میں ہی کیوں نہ پیدا ہوتا۔

جیسے ہم نےگوروں کے پروفیسر الو کو کالے جادو اور الو کا پٹھہ بلانے کے لیے مخصوص کر رکھا ہے ایسے ہی گدھا ہم نے دوسروں کی بے عزتی کرنے واسطے رکھ چھوڑا ہے۔ہاں کبھی کبھار کوئی گدھےکا مالک اس پر ڈنڈے برسانے کا کام بھی لے لیتا ہے۔

یورپ میں جتنی چار ٹانگوں والے گدھوں کی عزت ہے اتنی ہی دوٹانگوں والے گدھوں کی بھی خاص مانگ ہے اور گوریاں تو ان کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھتی ہیں۔ گوروں کو گدھوں سے کتنی انسیت ہے اس کی سب سے بڑی مثال امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کا انتخابی نشان ہے۔ اب سوچیں ہمارے ہاں کسی پارٹی کا انتخابی نشان شیر یا تیر کی بجائے گدھا ہو جائے تو کیا ہو؟ اسکی ایک اور مثال وہ تمام حکمران ہیں جن کو امریکی بھاگ بھاگ کر اپنی گودوں میں بٹھاتے ہیں۔گوریاں بھی گدھوں کی محبت میں پیچھے نہیں ہیں بلکہ شادی کے لیے ان کو صرف اور صرف گدھے ہی چاہئیں۔ہماری طرف لڑکیوں کا زور نہیں چلتا لیکن چاہتی وہ بھی ایسا دلہا ہیں جو ایک بوجھ ڈھونے والا گدھا ہو اور ان سے پارٹ ٹائم کے طور پر شادی کرسکے۔ ہمارے ہاں ابھی بھی اکثر رشتے والدین تلاش کرتے ہیں لہٰذا ان کا در پردہ مقصدِ تلاش اپنی بیٹیوں کے لیے دو ٹانگوں والا گدھا ہوتا ہے اور ان کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف بیوی کا گدھا ہو بلکہ پارٹ ٹائم میں سسرال والوں کو بھی خدمات پیش کر سکے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ہمارے یہاں اکثر گدھے شادی کے بعد خود ساختہ مردانگی کی اَنا کے غبارے میں ہوا بھر کر دولتیاں جھاڑنے لگتے ہیں۔ لیکن کچھ کچھ قسمت والیوں کو ایسے گدھے بھی ملتے ہیں جو چار ٹانگوں والے گدھے سے بدرجہا بہتر ہوتے ہیں۔

 یوں تو شادی کے بعد ہر لڑکا سمجھتا ہے کہ اس کو گدھا بنایا گیا ہے جب کہ گدھا تو وہ پہلے ہی ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ پہلے وہ اپنی مرضی سےگدھا بنتا ہے پھر اس کو مجبوراً بننا پڑتا ہے۔ ہر مرد زندگی میں دو بار گدھا بنتا ہے۔ ایک بار جب اسے کسی سے محبت ہوتی ہے اور دوسری بار جب وہ کسی سے شادی کرتا ہے۔ لیکن اسے احساس بعد میں ہوتا ہے اور کچھ کو تو احساس بھی نہیں ہوتا اور وہ ہنسی خوشی ایک ہی جنم میں آواگان نظریہ بنے انسان اور گدھے کا کردار اکٹھے ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ ویسے آج کل ہمارے پردیسی بھائی بھی اپنے آپ کو گدھا سمجھے جانے کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں، لیکن ہماری نظر میں ان سے زیادہ وہ گدھے ہیں جو پردیسی بننے کے امیدوار ہیں۔ لیکن یہاں بات گوروں اور گدھوں کے تعلق کی ہے تو ہم یہ بات کسی اور وقت کے لیے ادھار رکھ چھوڑتے ہیں۔

 اشتوت گارٹ (جرمنی)کے چڑیا گھر میں چمکتے بھورے رنگ اور درمیانی قامت کا جانور دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ سوچنے کے باوجود جب سمجھ نہ آیا کہ یہ کون سا جانور ہے تو نزدیک جا کر جنگلے پر لگا نام پڑھا، پتا لگا کہ موصوف گدھے ہیں۔ ہمیں اس کی قسمت اور عیاشیوں پر رشک آیا اور تمام پاکستانیوں سے جو ڈونکی لگا کر یورپ میں آنے کے خواہشمند ہیں یا" اِن پراسس" ہیں سے تمام گلہ مٹ گیا کہ جہاں عزت ہے وہیں جا کر رہنا ہی پسند کریں گے ناں۔ اس سے قبل وہ ہمیں پہچان کر ہمارا تمسخر اڑا پاتا ہم رش کا فائدہ اٹھا کر پچھلے قدموں ہی وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔ ہم گاؤں میں رہتے ہیں اور ہمیں گدھوں پر بیتنے والی تمام وارداتوں کا بخوبی علم ہے لہٰذا ہم نے وہاں سے فرار میں ہی نجات سمجھی کہ کسی اور کو پتہ لگ گیا تو گدھے والے جنگلے کی بجائے لوگوں نے ہمیں دیکھ کر کہنا تھا ’’ہونہہ.... گدھا کہیں کا۔‘‘

 پھر وارسا (پولینڈ)کے چڑیا گھر میں گوریوں کو گدھے کی گردن میں بانہیں ڈال کر فوٹو کھینچواتے یقین آگیا کہ مشرقی یورپ کی گوریاں چار ٹانگوں والے بھورے گدھوں پر جان چھڑکتی ہیں، دوٹانگوں والے کی تو بات ہی کیا ہے۔ ویسے پولینڈ میں ہمیں گوریاں جن نظروں سے دیکھتی تھیں ان سے ہمیں بھی گمان گزرتا تھا شاید وہ ہم کو بھی گدھا سمجھتی ہیں اور گدھا بھی وہ جس کی قربانی جائز ہو۔

اب کیا کیا جائے کہ یورپیوں کو گدھے اتنی وافر مقدار میں میسر نہیں جتنی ہم پر خدا کی رحمت ہے۔ جیسے گرم علاقوں والے برف باری کے شوقین ہوتے ہیں اور برف کے رہنے والے سورج کی ایک جھلک کو جان دیتے ہیں لہٰذا گدھوں کی کمی نے گوروں کو گدھوں کی محبت میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ وہ چاہے دو ٹانگوں والا گدھا ہو یا چار ٹانگوں والا گدھا تو گدھا ہوتا ہے۔ گورے کسی کو غصے میں کیا، مذاق میں گدھا نہیں کہتے کہ ان پر گدھے کی اہمیت مسلم ہے۔ امریکہ میں لڑکیاں پیپر میرج paper marriage کرلیتی ہیں لیکن یورپ میں (برطانیہ کو نکال کر) پیپر میرج کا کوئی وجود نہیں کہ گدھا خود چل کر آپ کے پاس آئے اور آپ صرف کاغذات میں اس کے مالک بنیں؟ ہمارے سامنے ہمارے کئی ہم وطن اور ہمارے وطن مالوف کے ہمسائے میں رہنے والے یہاں گوریوں سے شادیوں کے بندھن میں بندھ چکے ہیں۔

بھائیو! ہم سب وہ گدھے ہیں جن کو صرف چارے سے مطلب ہے۔ خواہ کوئی بھی حاکم ہو اور ہم پر کچھ بھی لاد دے، ہمارااحتجاج ڈھینچوں ڈھینچوں تک ہی محدود ہے اور وہ بھی تب تک جب تک ہم کو چارے کی جھلک نہ نظر آ جائے۔ چارہ نظر آیا نہیں اور اصول کی ڈھینچوں ڈھینچوں ہم نے بند کی نہیں۔ اب گوریوں اور گوروں کو گدھے پسند ہیں تو وہ ہمیں کیوں پسند نہ کریں۔

Sunday, 19 May 2013

پہلی صف



اکبر خان جتوئی جدی پشتی زمیندار تھا اور اس کی حویلی کی تعمیر ایک بیگھے رقبے پر اس کے دادے نے بڑی باڑھ کے بعد دوبارہ کی تھی۔ اس حویلی کے ساتھ ہی اس کے کئی باڑے اور ایک ڈیرہ جس پر ہر وقت اس کے مزارعوں اور باڑے کے ماجھیوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔تین بیویاں ، دو جوان جہاں بیٹے جو زیادہ تر شہر میں رہتے، کئی گھیر زمین کی جاگیر اور اس میں کئی ایکڑ آموں کے باغ اور سال میں ایک اناج اور دوسری صاف منافعے کی فصل بوئی جاتی تھی۔ سب کچھ تھا مگر اس کے باوجود  اکبر خان کی بس دو کمزوریاں تھیں۔ ایک تو ضرورت سے زیادہ زمین ہونے کے باوجود وہ مزید سمیٹنے سے خود کو باز  نہیں رکھ سکتا تھا اور دوسرا حویلی کی زنان خانے میں تین بیویوں کے باوجود بھی وہ ڈیرے پر عورتیں لائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا تھا۔ ہر سال وہ کچھ نہ کچھ زمین یا تو کسی مجبور سے خرید لیتا نہیں تو ہتھیانے تک کے لیے اس کے کاردار موجود تھے جن میں اکثر چھٹے ہوئے مفرور تھے۔ دوسری ہوس کے لیے  اکثر تو ناچنے والی کنجریاں بلا لاتا ورنہ مزارعوں کی عورتیں تو کھونٹی پر بندھی گائیوں کی طرح ہر وقت ہی اس کی خدمت واسطے موجود تھیں، یہاں بھی جو مرضی سے آ جاتی تو ستے خیراں نہیں تو کاردار خان کی پگڑی لے کر جاتے اور رات کے نکاح میں باندھ کر لے آتے۔
جو بھی تھا، ان دو قباحتوں کے علاوہ اکبر خان بھلا آدمی تھا۔ پانچ وقتی جماعت کا نمازی اور  مسجد کا خادم۔ سارا خرچہ خود تن تنہا اٹھاتا، مولوی کا ماہانہ وظیفہ یاد سے اس کی کوٹھڑی میں بھجوا دیتا اور مسجد میں خدا کے مسافروں کے لیےدو وقت کھانا بھی اکبر خان کی حویلی سے ہی پک کر بلاناغہ آیا کرتا تھا۔ پھر عرس کے عرس، زیارت پر کئی ہزار روپوں مالیت کا گھی مکھن اور نذرانہ علیحدہ سے پہنچاتا  کہ اس کی فصل، حویلی اور ڈیرے میں مرشدوں کی برکت اور خدا کا سایہ قائم رہے۔  مسجد میں بس اسے ایک خبط تھا کہ ہمیشہ پہلی صف میں عین ملا کے پیچھے نماز  پڑھتا اور مجال ہے کہ اس کی جگہ پر کوئی اورنمازی قدم رکھنے کی بھی جرات کر سکتا ہو۔ لوگ اس کے منہ پر تو کچھ نہ کہتے تھے مگر اکثر نائی موچی باہر نہر کے کنارے آباد بازار میں اکٹھے بیٹھتے تو دبے دبے اکبر خان  کی اس عادت کو برا جانتے۔ جیسے، نورا حجام ایک دن  ریتی پر استرا تیز کرتے ہوئے  سامنے بیٹھے شکو موچی  سے کہنے لگا کہ،
 'تجھے پتہ مسیت میں اکبر خان نے مصلیٰ تک اپنے لیے علیحدہ سے لگوا لیا ہے۔ آگے مولوی کا مصلیٰ ہوتا ہے اور ایک سجدہ چھوڑ کر اس کا مصلیٰ ہے۔ کاردار نے بتایا کہ خان نے یہ مصلیٰ خصوصاً مدینے سے منگوایا ہے"۔
 شکو موچی جو بے دھیانی سے اس کی بات سنتے ہوئے گھسے جوتوں میں سوئے تار رہا تھا، مدینے کا زکر سن کر ایک دم مودب ہو گیا ۔ دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر دبائے اور کہنے لگا، "مولا برکت ڈالے۔ خدا جانتا ہے بستی میں اس کی وجہ سے مسجدمیں سب کو سہولت ہوتی ہے۔ پانی سارے پہر ٹونٹیوں تک میں آتا ہے اور  پھر مسافروں کے لیے اس نے جو بندوبست کر رکھا ہے، اللہ مولا کی سنت ہے۔"
اس پر نورے نے برا سا منہ بنا کر مسافروں کی آل اولاد میں حرام نطفہ گھسیڑا اور بولا،
 " شکو، حرام پنا نہ کر۔ خان کی خود کی حالت یہ ہے کہ رات عورتوں کی گود اور فجر مولوی کے پیچھے گزرتی ہے۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں نے تو فجر سے توبہ کر لی۔ سویر وہ نام تو خدا کا پڑھ رہا ہوتا ہے مگر منہ کپی کی باس مارتا رہتا ہے۔ جماعت حرام  ہو توایسی مکروہ  نماز کا فائدہ؟" اس پر شکو نے بھی استغفار پڑھی اور گویا ہوا کہ،
"باقی تو سب ٹھیک ہے، بس اس کی یہ عورتوں والی بد عادت چلی جائے تو بندہ ہیرا  ہے، ہیرا۔" اب کے شفیے درزی نے شلوار کے نیفے کا عرض سلائی مشین میں فٹ کیا اور ہتھ دستی سے کھٹ کھٹ کرتے لقمہ دیا کہ،
 "بات یہ ہے بھائیو کہ اکبر خان مسجد میں نماز پڑھ کر خدا کو راضی رکھتا ہے، مگر پہلی صف میں کھڑے ہونے کی عادت اس کے دادے والی ہے۔ میرا ابا کہا کرتا تھا کہ جتوئیوں کو خدا کی زمین تو عطا ہوئی ہی ہے مگر وہ مسیت کے بھی زمہ دار ہیں۔ کہو تووہ مسیت میں بھی خدا کے شریکے ہیں"۔  ان لوگوں کی یہ  بحث  ہمیشہ کی طرح تب بند ہوئی جب اکبر خان کا منشی طوفا وہاں آ کر بیٹھ گیا اور حقہ سلگا کر تاشوں کی بازیاں چلنے لگیں۔ شکو، نورےاور شفیے نے اپنا دھندہ ویسا چھوڑ  کر دن بھر کی کمائی تھڑے پر جوئے میں جھونک دی۔
شام میں اکبر خان باہر ہوا خوری کو نکلا کرتا تھا۔ اس روز بھی  جب وہ بازار میں نکلا تو منشی بازی آدھی چھوڑ کر اس کے پیچھے دوڑا تو شکو نے منہ نیچے کر کے پاس بیٹھے شفیے کی ران دبا کر کہا کہ، "لے بھئی شفیے،طافو دلال  خان کے لیے رات کا  انتظام پوچھنے گیا ہے۔" اور شکو جو ان دونوں کو سن رہا تھا طافو کو واپس آتا دیکھ کر بولا، "رب جانے کس مزارعے کی فصل  میں یہ حرامی کھوٹ نکالے گا۔" اور طافو نے جیسے شکو کی یہ بات سن لی ہو، انجان بن کر چلتے چلتے  رقم سمیٹتے بولا،
 "آج کی بازی تو سجنو میں لے  ہی گیا، اب دیکھو کس دن خان کا باز تم حرامزادوں کی چڑیوں پر نظر ڈالتا ہے۔" اس کی موجودگی میں تو کسی کو ہمت نہ ہوئی، اس کے جانے کے بعد سب نے خان اور اس کے دلال کی  زبانی کلامی خبر لی۔
منشی  طافو کا کام دلال جیسا تھا۔ وہ اکبر خان کے لیے مزارعوں کی عورتیں ڈھویا کرتا تھا۔ اس کے پاس سب کا حساب تھا اور جس مزارعے کی کوئی عورت تارنے والی ہوتی تو اس کے حساب میں ردبدل بھی ہو جاتا تھا۔ اکثر تو اس کی ضرورت بھی پیش نہ آتی تھی اور اس دن بھی شام جب وہ گجو کی بیٹی کو گائے کی طرح اپنے ساتھ ہانک کر  ڈیرے پر پہنچا تو شام پڑنے والی تھی ۔ اکبر خان کچھ افسردہ سا باہر  کھلے میں چارپائی پر لیٹا تھا ۔ گجوکی بیٹی کو وہ اندر چھوڑ کر خان کے پاس آیا تو اکبر خان نے اسے منع کر دیا۔ طافو حیرانگی سے اسے تکنے لگا کہ ماجرا کیا ہے۔ اکبر خان نے اٹھ کر حقے کا پائپ چارپائی کی پائنتی میں پھنسایا اور بولا،
"جگو سپیرا سنابستی میں واپس آ گیا ہے؟" اس پر طافو نے بتایا کہ وہ دو تین دن ہوئے اپنے کڈے کے ساتھ واپس آ گیا ہے اور اس بارکہتا ہے کہ اچھے خاصے رنگ برنگے چھوٹے بڑے کئی سانپ پکڑلایا ہے۔ اسی وجہ سے بستی میں اچھی خاصی رونق لگی ہوئی ہے۔ اکبر خان نے ان سنی کر کے پوچھا
"نوری بھی آئی ہے؟"
 گو طافومعاملہ تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا بس اکبر خان کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
نوری جگو سپیرے کی سب سے بڑی لڑکی تھی۔  بس پچھلے سال ہی اس کی جوانی نکلی تھی۔ سانولی اور بھرے گالوں والی۔ لانبی زلفیں گُت بنا کر یہاں وہاں گھماتے پھرتی۔ نکلتا قد اور ابھرا سینہ خم کھاتی کمر میں اور بھی بھلا نظر آتا۔ باپ کے ساتھ سانپوں کا تماشہ کرنے نکلتی تو لوگوں کی نظریں اس کو ٹٹولتیں، سنپولیوں جیسی ہر جسمانی خم دار ادا  مسحور کن سی سب کو محو کر دیتی،یہاں تک کہ جگو سپیرے کو لاٹھی زمین پر مار مارلوگوں کو  سانپوں کی طرف متوجہ  کرنا پڑتا۔ الغرض، جس کو دیکھو سانپوں کے بہانے نوری کو دیکھنے نکلا کرتا تھا اور پھر کئی سو روپے بے سود پھکیوں پر خرچ کر کے اٹھتا اور  کہو تو سمجھتا ،منافعے میں رہا۔ اکبر خان نے جب سے نوری کا  یہ نظارہ کیا تھا ،باؤلے کتے جیسے ہر وقت اس کی مشک مارتا رہتا تھا۔ اس رات بھی گجو کی بیٹی جب اس کے بستر میں گھسی تو خان کا دھیان دور بستی میں نوری کی طرف بٹا ہوا تھا، سویر واپس جاتے ہوئے گجو کی بیٹی  شرمندہ سی روانہ ہوئی ۔اگلے روز تو جیسے آپے سے باہر ہو گیا۔ تین نمازیں وہ مسجد نہ جا سکا، اور صف میں اس کی جگہ پر کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس کا مصلیٰ ویسا ہی خالی چھوڑ کر نمازیں ادا کرنی پڑیں اور اس شام نورے حجام کا گلہ یہ تھا کہ تین نمازیں صف میں خالی مصلےٰ کی وجہ سے مکروہ ہو گئیں۔ خان بدبخت، مسیت جائے یا نہیں، نمازیں سب کی مکروہ ہو جاتی ہیں۔
طافو منشی آج تیسرا دن تھا کہ نوری کے پیچھے پیچھے کتے کی طرح سونگھ لے رہا تھا مگر یہ تھی کہ اس کے ہاتھ نہ آتی۔ پل کو جھگی سے نکلی اور پھر گھس رہی۔ پچھلی شام سانپوں کا تماشہ بھی نہیں ہوا تھا تو طافو کی مشکل اور بھی بڑھ گئی۔ تبھی اس کو جب اکبر خان نے خوب لعن طعن کیا تو اس نے نوری کے باپ جگو سپیرے سے بات کرنے کی سوچ لی۔ اس کی جھگی میں جا کر اسے  نوری کے لیے خان کا پیغام پہنچایا جس پر جگو کی باچھیں کھلی رہ گئیں۔ پہلے تو اس نے پس و پیش سے کام لیا اور پھر جب طافو نے ہلکے سے اسے خمیازے کا اندازہ کروایا تو منت ترلے پر آ گیا، منمنا کر ہاتھ جوڑے اور جیسے باور کرایا، "مائی باپ، ہم سپیرے آزاد ہوتے ہیں اور عورت زات تو ویسے بھی اپنے من کی غلام ہوتی ہے، اس کو کوئی قابو کر پایا ہو؟ نوری میرا مال ہے مگر اس کا فیصلہ وہی دیوے گی" طافو سمجھ گیا کہ یہ بات اس نے ٹالنے کو کہی تھی ورنہ عورت زات کی ایسی کہاں جرات جو انکار کر پاتی۔ وہ تو  کلے سے لگی گائے ہے جسے سبزے کی لالچ دو اور اسے ساتھ ہنکائے چلے جانا چاہیے۔ پھر مزارعوں کی طرح گو جگو سپیرا خان کا محتاج نہیں تھا مگر پھر بھی خان بہرحال خان تھا، اس چپے زمین کا مائی باپ تھا جہاں سے جگو سپیرا نہ صرف سانپ پکڑا کرتا تھا اور پھر وہیں ان سانپوں کے بل پر اپنے کڈے کا پیٹ بھرتا تھا۔ بالواسطہ، جگو سپیرا اکبر خان کا دیا نمک ہی کھا رہا تھا۔ طافو نے اس کو مہلت دی اور جب واپس تھڑے پر پہنچا تو تینوں کمی خان کی نوری واسطے رسے تڑوانے کی بحث لیے ہی بیٹھے تھے ۔ ان کو یہ تو معلوم تھا کہ نوری آج نہیں تو کل خان کی کھونٹی سے بندھ ہی جائے گی، دیکھنا یہ تھا کہ یہ ناگن کس منتر سے کیل جائے گی۔
چوتھے دن ہی اکبر خان کا پیمانہ لبریز ہو گیا جب نوری نے ٹکا انکار کر دیا۔ کاردار کو کہلوا کر  نوری کو جھگی سے اٹھوا لایا اور پہلے تو اسے سمجھایا اور یقین دلایا مگر یہ تھی کہ جیسے ناگن پھنکارتی اس کو قریب نہ لگنے دیتی تھی، خان نے جب خود اس سے بات کی تو تڑک کر بولی
 "مر جاوں گی مگر حرام سے خود کو پلید نہیں ہونے دوں  گی"۔
 اس پر اکبر خان نے سر شام ہی مولوی کو بلا کر نکاح پڑھوا نا چاہا تو نوری اور بھی  بدک گئی۔کسی طور بھی نہ مانی تو  اکبرخان کی مردانگی نے جوش مارا اور مولوی کو رخصت کر خود اس کے پاس ڈیرے میں جا گھسا۔ پہلے تو اس سے نرمی برتی مگر جب یہ بالکل بھی ہتھے نہ لگتی تھی تبھی اس نے زبردستی اس کو بھینچ لیا۔ چادر کھینچی تو اس میں سے ایک میلی کچیلی پوٹلی تھپ سے زمین پر جا گری جس کا منہ کھلا ہوا تھا ۔اکبر خان جو نوری کو قابو کرنے میں اتنا مگن تھا بالکل بھی دھیان نہ گیا اور پوٹلی میں سے سنہرے رنگ کاناجی، مشکی ناگ پھنکارتا ہوا نکلا ۔ سنسناتی پھنکار سنتے ہی اکبرخان کی ساری مردانگی ہوا ہو گئی اور وہ نوری کو ویسا  چھوڑ کر ابھی مشکی کی طرف مڑا ہی تھا کہ اس کے دونوں دانت اکبرخان کی ٹانگ میں گڑ گئے۔ اکبرخان کی ایک چیخ بلند ہوئی اور نوری نیم عریاں دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی ۔ طافو اور کاردار دوڑے ہوئے اندر پہنچے تو اکبر خان کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ دو نالی کے ایک فائر سے کاردار نے مشکی کا کام تمام کیا تو یہاں اکبر خان نے آخری ہچکی لی۔
سویر تک اکبر خان کے دونوں بیٹے پہنچ گئے اور قبر کھود لی گئی۔اکبر خان کا جنازہ اٹھایا گیا تھا تو منہ کالا سیاہ ہو رہا تھا۔ جنازہ گاہ میں مولوی نے پہلے تو اکبر خان کی بڑائی بیان کی اور خدا کے گھر اور سینکڑوں مزارعوں کے گھروں  واسطے اس کی خدمات پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ اس کے بعدلوگوں کو مخاطب کر کے موت کی حقیقت پر  توجہ مبذول کروائی اور پہلی تکبیرکہنے سے پہلے،  ہدایات کچھ یوں گوش گزار کیں،
"اے لوگو، صفیں درست رکھو، ٹخنے سے ٹخنہ اور کندھے سے کندھا ملا لو۔اگر زمین پاک ہے تو جوتے اتار لو ورنہ پہنے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ صفوں کے درمیاں جگہ خالی نہ چھوڑو ورنہ شیطان وہ جگہ پر کر لیا کرتا ہے"
مولوی کا اتنا کہنا تھا کہ سب کی نگاہیں پہلی صف پر جا کر ٹک گئیں جہاں مولوی کے پیچھے ایک جگہ خالی تھی ۔ اس جگہ پر ہمیشہ اکبر خان کو کھڑے رہنے کا خبط رہا کرتا تھا اور اسے پر کرنے کی ابھی تک کسی کو ہمت نہ تھی۔
-افسانہ-