Tuesday, 26 February 2013

دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارا کر کے

باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے
خود بھی رویا وہ بہت ہم سے کنارہ کر کے
سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں انجام خلوص
پھر اسی جرم محبّت کو دوبارہ کر کے
جگمگا دی ہیں تیرے شہر کی گلیاں ہم نے
اپنے ہر اشک کو پلکوں پے ستآرہ کر کے
دیکھ لیتے ہیں چلو حوصلہ اپنے دل کا
اور کچھ روز تیرے ساتھ گزارا کر کے
ایک ہی شہر میں رہنا اور ملنا بھی نہیں
دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارا کر کے

Monday, 25 February 2013

مکالمہ

گیا تھا ہیلتھ سینٹر؟ کر آیا اپنی لیڈی ڈاکٹر کی پونڈی؟
نہیں یار وہ ڈاکٹر نی تھی کوئی اور گورا تھا
اس نے تو فیر ٹیکہ لگایا ہونا؟
نہیں یار ٹیسٹ کرانے کو کہا؟
کونسے ٹیسٹ؟ ہو گئے؟
ہاں ہو گئے۔ ایک بلڈ کا لیا ہے، ایک شوگر ، یوریا اور وہ کیا ہوتا ہے۔۔۔ :roll:
ایکس رے؟
نہیں
سی ٹی سکین؟
نہیں
ایم آر آئی؟
نہیں یار وہ جو چھوٹا سا ہوتا ہے
راجو؟
او نئیں یار وہ جو عورتوں کا ہوتا ہے؟
عورتوں کا بھی ہوتا ہے؟ :shock:
او یار اتنا کامن سا تو ہے
بچہ؟
نہیں یار ٹیسٹ
بیٹا میں نے تو پہلے ہی کہا تھا تجھے کوئی زنانہ بیماری ہے
او الٹرا ساؤنڈ یار ،،، الٹراساؤنڈ
بشکریہ ڈفر کا بلاگ

محبّت اب نہیں ہو گی

Sunday, 24 February 2013

امام دین کی ایک غزل

اچھلتا ہے  بانسوں جگر مام دینا
جب سے لڑی ہے  نظر مام دینا

کسی نے یہ ما ری ہے ٹر مام دینا 
کے گھر میں پکے ہیں مٹر مام دینا

دبانا دبانا میری پنڈلیوں کو 
کے ان میں ہے سوز جگر مام دینا

کمیٹی سے کہہ دو کے چھڑکاؤ کر دے 
کے آے گا وو میرے گھر مام دینا

کوئی سیٹ جنت میں خالی نہیں ہے 
تو جلدی سے دوزخ میں وڑ  مام دینا  

Thursday, 21 February 2013

فیصلہ

آدھی رات کا وقت تھا معصوم سا بچہ سارے دن کی شرارتوں کے بعد تھک کر
 باپ کی آغوش میں سویا ہوا تھا تب باپ اٹھا 
 اسے جانا تھا بہت دور .
یوں جانا بہت مشکل تھا مگر اور بھی غم ہیں زمانے میں محبّت کے سوا
اس نے ہزار بار سوچا نہ جانے کی کوئی ایک سبیل اور رک جاے
آخر جی کڑا کر کے نکل کھڑا ہوا سارے راستسے ہزار بہانے سوچے  کہ رک جاے .گاڑی تاریک راستوں پر چلتی جیسے اسے زندگی کی حقیقتوں  سے آشنا کرتی جاتی تھی اور وہ ہزار طریقے سے گھر سے دور جانے سے بچنا چاہتا تھا اب شہر کی روشنیاں ان کا استقبال کر رہی تھیں اور وہ فیصلہ کرنے ہی والا تھا .
یکدم گاڑی جھٹکے سے رکی اور جیسے اسے کسی نے یادوں کے سمندر سے کھینچ نکالا ہو کیا ہوا
کچھ نہیں
ڈرائیور کی آواز ابھری شہر میں داخلے کا ناکہ ہے .
اچھا .تو چیک کیوں نہیں کرتے .نہیں انہیں پاس دے دیا ہے
پاس؟ارے بھائی 200 روپے
اب اس کے ہوش ٹھکانے آ چکے تھے
ہوائی اڈے تک ٣ ناکے آیے اور ہر ایک پر پاس دینا پڑا کہیں کم کہیں زیادہ
اب اس کے پاس رکنے کی کوئی وجہ باقی نہیں تھی اور جو دل سارے رستے ہزار بہانے سوچتا آیا تھا  اب جانے کو پوری طرح تیار تھا

Wednesday, 20 February 2013

پردیس برا ہے

وہ کہتے ہیں  پردیس برا ہے تو چھوڑ  کر کیوں نہیں آ جاتے کاش میں آ سکتا
ہاں میں ہر شام گھر جانا چاهتا ہوں ان بوڑھے ماں باپ سے ملنا چاہتا  ہوں
اس معصوم بیٹے سے کھیلنا چاہتا ہوں جو فون پر ابّو ابّو پکارتا ہے 
اس ماں کے کندھے  پر سر رکھ  سارے دکھ کہنا چاہتا ہوں
اس بیوی سے ملنا چاہتا ہوں جو کیی برس سے میرے انتظار میں ہے
اس بہن کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہتا ہوں جسے میں کب سے ملا نہیں 
ماں کے ہاتھ کی وہ لسی  پینا چاہتا ہوں جو مجھے کویت  دبیی  عراق کے کسی برگر کنگ پر نہیں ملتی 
وہ سرسوں کا ساگ  جو کسی پانچ ستارہ ہوٹل پر نہ ملا 
وہ مکیی کی روٹی جو کہیں نہ ملی  اور اس سب سے تو میں صبر بھی کر لوں کے کھانے کو تو انسان کچھ بھی کھا کر زندہ رہ لیتا ہے 
مگر وہ گھر کا آنگن وہ مٹی کی خوشبو جو کہیں نہیں ملتی اسی وجہ سے تو آنا چاھتا ہوں مگر کوئی یاد کرا دیتا ہے 

یار وہ گاڑی کی کچھ قسطیں باقی ہیں ابھی 

Tuesday, 19 February 2013

نہیں رہنا

نظر رکھنا کہ اس کے اور کیا کیا اب ارادے ہیں
فقط تم یار جانی ، یار جانی میں نہیں رہنا

وہ زندہ آدمی کو بت بنا سکتا ہے ، سمجھے تم؟
اسیر اس شوخ کی جادو بیانی میں نہیں رہنا

جہاں تک ساتھ دیں وہیں تک لطیفِ نغمہ ہے
ترو تازہ یہ لہجہ دورِ ثانی میں نہیں رہنا

ہمارے بعض شعرائے مکرم کا مقولہ ہے
ضعیفی میں جواں رہنا ، جوانی میں نہیں رہنا

تم اپنا خود کوئی کردار ساجد منتخب کر لو
گداگر بن کے شاہوں کی کہانی میں نہیں رہنا

کیا دیکھوں

اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آجائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کُھل جائے تو تنہائی کا صحرادیکھوں

شام بھی ہوگئی،دُھند لاگئیں آنکھیں بھی مری
بُھولنے والے،میں کب تک ترارَستا دیکھوں

ایک اِک کرکے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خُود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

کاش صندل سے مری مانگ اُجالے آکر
اتنے غیروں میں وہی ہاتھ ،جو اپنا دیکھوں

تو مرا کُچھ نہیں لگتاہے مگر جانِ حیات!
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں!

بند کرکے مِری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بُوجھے جانے کا میں ہر روز تماشہ دیکھوں

سب ضِدیں اُس کی مِیں پوری کروں ،ہر بات سُنوں
ایک بچے کی طرح سے اُسے ہنستا دیکھوں

مُجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رُت میں مہکتا دیکھوں

پُھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کِھل جائے
پنکھڑی پنکھڑی اُن ہونٹوں کا سایا دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پُوجا ہے،اُسے بس اِک بار
اب بن کر تری آنکھوں میں اُترتا دیکھوں

تو مری طرح سے یکتا ہے، مگر میرے حبیب!
جی میں آتا ہے، کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

ٹُوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

وصی شاہ کی ایک دلکش غزل

میں تیرے لب پہ ہوں دیرینہ شیکایت کی طرح
یاد رکھنا ہے تو نے مجھ کو عداوت کی طرح

چاند نکلے تو میرا جسم مہک اُٹھتا ھے
رُوح میں اُٹھتی ہوئی تازہ محبت کی طرح

تیری خاطر تو کوئی جان بھی لے سکتا ھوں
میں نے چاہا ہے تجھے گاؤں کی عزت کی طرح

کھل رہی ہےمیرے دیرینہ مسائل کی گرہ
میرے ماحول میں اُترا ہے وہ برکت کی طرح

اب تیرے ہجر میں کوئی لطف نہیں ہے باقی
اب تجھے یاد بھی کرتے ہیں تو عادت کی طرح

تم میری پہلی محبت تو نہیں ہو لیکن
میں نے چاہا ہے تمہیں پہلی محبت کی طرح

وہ جو آتی ہے تو پھر لوٹ کے جاتی ہی نہیں
تم لپٹ جاؤ کبھی ایسی مصیبت کی طرح

میرے دل میں کوئی معصوم سا بچہ ہے وصیؔ
جو تجھے سوچتا رہتا ہے شرارت کی طرح

Monday, 18 February 2013

back to home?

میں گھر واپس آ رہا ہوں
ابھی تو گیا ہے، اتنی جلدی چھٹی مل جائے گی دوبارہ؟
میں پکا پکا واپس آ رہا ہوں؟
خیریت؟ وہاں دفتر میں سب ٹھیک ہے نا؟
ہاں سب ٹھیک ہے بس میرا دل نہیں لگتا یہاں۔
ہر چوتھے دن تجھے یہ دورہ پڑا وا ہو۔ یہاں آئے گا تو کیا ہے یہاں دل لگانے کو؟ بجلی ، پانی ، گیس کچھ بھی تو نہیں۔ اور تو اور اب تو موبائل بھی بند رہنے لگ گئے۔ سی این جی کو دیکھ لو، اور سی این جی ہی کیا پٹرول تک نہیں ملتا، پیسے بھی دو اور جوتے بھی کھاؤ۔ تجھے وہاں کوئی تکلیف نہیں ہے اس لئے تیرا ”دل نہیں لگ رہا“ وہاں۔ ساری باتیں چھوڑ یہ بتا کیا کرے گا یہاں آ کے؟ بھول گیا کس طرح جوتیاں گھسائی تھیں؟ مل گئی تھی نوکری؟
جو باقی سب کر رہے ہیں میں بھی وہی کر لوں گا
باقی سارے تو رو رہے ہیں تو بھی آ کے رونا ڈال لے۔ ہسپتال میں جاؤ تو ڈاکٹر نہیں ملتا۔ پرائیویٹ دکھا کر فیسیں بھرو، انکی جیبیں گرم کرو اور پھر بھی کتوں والا سلوک کرواؤ۔ تو تھا نہیں یہاں؟ تیرے سامنے کی بات نہیں ہے؟ یا وہ سب بھی بھول گیا ہے؟
آپ لوگ بھی تو رہ رہے ہیں نا وہاں سکون سے
کیونکہ ہمارے گھر کا ایک فرد ”وہاں“ بے سکون رہ رہا ہے اس لئے ہم ”یہاں“ سکون سے رہ رہے ہیں
کس سے گرما گرمی ہو رہی ہے بھئی کیوں اتنی اونچی آواز کر رہے ہو؟ کون ہے ادھر؟
خود ہی پوچھ لیں
مجھے کیوں نہیں بلایا؟
آپ باہر گئے ہوئے تھے
ارے بھئی نوید کی دکان پر تھا اور کہاں جانا تھا میں نے؟ لاؤ میری بات کراؤ
ہاں بھئی بیٹا جی سناؤ کیا حال ہے۔ کیا بات ہوئی؟
کچھ نہیں بس سوچ رہا تھا کہ پاکستان واپس آ جاؤں ، یہاں دل نہیں لگتا
جگ جگ آؤ بیٹا جی۔ اس سے اچھی کیا بات ہو سکتی ہے
میں نے سوچا آپ سے مشورہ کر لوں
بیٹا جی وہاں کے حالات تو تجھے ہی پتہ ہیں اور اپنے دل کے بھی۔ مشورہ کر لے جس سے کرنا ہے، اچھی طرح سوچ لے اور پھر فیصلہ کر۔ نو رگریٹس لیٹر آن۔ رزق رب نے لکھ دیا سب کا۔ وہاں بھی مل رہا ہے یہاں بھی ملے گا۔ تو نے وہاں جا کر اپنے دل کی تو پوری کر لی نا۔ دل مطمئن ہے یہ سب سے بڑی بات ہے۔
یہ نو رگریٹس پالیسی ابوجی نے بچوں کو سکھانے کی کبھی فارمل کوشش نہیں کی تھی۔ بس انکو دیکھ دیکھ کر ہی سب (یا کم از کم اس) نے خود ہی سیکھ لی تھی۔
لے تیری امی آ گئیں، ان سے بھی بات کر لے
(امی تک اسکی واپسی کی خبر کسی ذریعے سے پہنچ ہی چکی تھی اور اسے سنے بغیر ہی بولیں)
واقعی واپس آ را ؟
(اسکی ہمیشہ سرپرائز واپسی نے انہیں اسکی آمد کی خبر بارے بے یقین رکھا، اس نے کبھی گھر والوں کو اپنی آمد بارے اطلاع یا درست اطلاع نہیں دی۔ اگرکبھی آنے کا پوچھیں تو ہمیشہ جھوٹ کہہ دیتا ۔ ابھی مشکل ہے، ابھی تو دو مہینے تک چھٹی ملنا مشکل ہے، عید سے پہلے نا ممکن ہے، اب سال میں صرف دو دفعہ چھٹی مل سکے گی، ساری چھٹیاں ختم کر کے ہی تو آیا تھا اس دفعہ، عجیب عجیب بہانے اور پھر ایک دم سے سرپرائز وزٹ۔ پتہ نہیں اسے کیوں نا پسند ہے کہ کوئی اسے ائرپورٹ پر لینے یا چھوڑنے آئے۔ آؤ بھگت سے بندہ اپنے ہی گھر میں مہمان مہمان سا فیل کرتا ہے نا؟ سرپرائز وزٹ ایسی مداراتوں سے کافی بچت کرا دیتا ہے۔ اور اس سب سے بڑھ کر، کچھ چہروں کی خوشی اور بشاشت دیکھنے لائق ہوتی ہے۔ )
واقعی واپس آ را نا؟ جمعے کو آتی ہے نا فلائیٹ؟ ٹھیک ہے کل کلیجی پکانے کا سوچ رہی تھی اب جمعے کو ہی پکاؤں گی۔ اچھا ہوا پہلے بتا دیا، تُو تو اب مرچیں بہت ہی کم کھاتا ہے، تیرے حساب سے بناؤں گی
وہ جوابا یہ بھی نہ کہہ سکا کہ میں تو صرف سوچ رہا تھا، مشورہ کر رہا تھا۔
نہیں اس جمعے کو تو نہیں۔ اتنی جلدی نہیں آ سکتا۔ وائنڈ اپ کرنے میں کچھ ہفتے تو لگیں گے ہی۔ پتہ نہیں آفس والے چھوڑیں گے بھی کہ نہیں۔ میں آنے سے پہلے بتا دوں گا۔
وہ جو ہار ماننے والوں میں سے نہ رہا ہو، جسکی فطرت میں بحث کرنا، دلیلیں دینا اور دوسروں کو زچ کرنا محبوب مشاغل ہوں، اسکے لئے بات کرنا مشکل ہو گئی۔ لفظ حلق سے ضد باندھنے لگے تھے۔ اب کسی کو انسان کیا بتائے کہ کیوں واپس آنا چاہتا ہے؟ کمزور لگتا ہے نا بندہ ایسی باتوں سے؟ اور مضحکے کا ڈر الگ۔
میں بعد میں بات کروں گا۔ ابھی ایک دوست باہر آیا کھڑا ہے، کھانا کھانے کے لئے جانے لگے تھے تو سوچا بات کر لوں پہلے۔ اللہ حافظ
اور اب وہ سوچ رہا ہے کہ کیا وہ واقعی سب بھول گیا ہے؟ وہ ذلت اور بے بسی کا احساس جو انہوں نے اپنے باپ کے علاج کے لئے ڈاکٹروں کے ہاتھوں اٹھائے؟ بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور شخص کے تجربے کو ایکسپلائیٹ کرنے کی آجرانہ کوششیں؟ بجلی پانی گیس موبائل کی اسے پہلے فکر تھی نہ اب ہے، لیکن کیا وہ یہ سیکھنے کے لئے ابھی تک اتنا میچور بھی نہیں ہوا تھا کہ اسکے دیس میں ان جیسوں کو صرف ذلت ملتی ہے اور عزت نفس پیسے دے کر بھی نیلام ہی کرانی پڑتی ہے؟ اسے کچھ نہیں بھولا تھا، سب یاد تھا ، تمام جزئیات سمیت، تمام حقائق اور دلیلوں کے ساتھ۔ پھر وہ شخص جو اب تک اس شہر سے تو کیا اپنے آپ سے بھی بھاگتا رہا ہو وہ گھر واپس کیوں آنا چاہے گا؟
کیونکہ اسکی بھی ماں ہے، اور وہ اسے یاد آتی ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو مس کرتے ہیں۔
ہونہہ پوؤر کڈ ، ہاؤ فنی


thanks to daffer ka blog  for this  story.

Saturday, 16 February 2013

ہمارے بچپن کی سچائیاں

thanks to the dawn news for this story
 
بچپن میں جب ہم کہانیاں سنتے ہیں تو ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ جب ہم بڑے ہو جائیں گے ہمارے بچپن کی سچائیاں تو خود
 ہمارے لئے ہی ایک کہانی بن جائیں گی۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں چھ سات سال کا تھا۔ ہم ایک درمیانے سائز کے مکان میں رہتے تھے۔ اس مکان کا دروازہ ایک انتہائی تنگ گلی میں تھا، جس کا ایک سِرا بازار میں کھلتا تھا جب کہ دوسرے سرے پہ ایک اور مکان کا دروازہ تھا جو اکثر بند ہی رہتا تھا۔ گلی محض ڈھ...ائی تین فٹ چوڑی ہوگی اور دونوں طرف موجود اونچی دیواروں کے باعث مزید تنگ محسوس ہوتی تھی۔ ہمارے گھر کا دروازہ گلی کے دوسرے سرے پہ موجود بند دروازے کے ساتھ ہی تھا۔
مجھے ہمیشہ گلی کے نکڑ سے اپنے گھر تک جانے میں بہت ڈر لگتا تھا۔ گلی میں داخل ہوتے ہی میں اس طرح تیز تیز چلنا شروع کر دیتا تھا کہ جیسے وہ لمبی دیواریں مزید تنگ ہو رہی ہوں اور میرے گھر تک پہنچنے سے پہلے ہی آپس میں مل جائیں گی۔ اس خوف کی وجہ جو بھی تھی لیکن یہ خوف اب بھی کبھی کبھار سامنے آ جاتا ہے۔ میرے خیال میں ہم سب کے لاشعور میں تنگ جگہوں کا خوف ازل سے موجود ہے۔

ہمارے مکان کی دوسری منزل پہ ایک ہی کمرہ تھا۔ اس کمرے کی ایک کھڑکی باہر اسی گلی میں کھلتی تھی لیکن کھڑکی اونچی ہونے کی وجہ سے مخالف سمت کی دیوار گلی کے پار کے ‘منظر’ کو روکنے میں ناکام تھی۔ پورے گھر میں میری واحد اٹریکشن وہ کھڑکی ہی تھی۔ ہلکے سبز روغن والے ان کواڑوں کا تعلق براہ راست میرے دماغ سے تھا۔ جیسے کسی میٹا فزیکل متوازی دنیا میں کھلنے والا ایک پورٹل ہوتا ہے۔
میرے لئے وہ پورٹل اس گلی کے خوف سے بھاگ نکلنے اور آگے موجود ‘کھلی’ فضا تک رسائی کا ایک ذریعہ تھا۔ شاید یہ میں ہی تھا یا پھر بچے ہوتے ہی ایسے ہیں، سنی سنائی یا پڑھی ہوئی کہانیوں کے تمام کردار اپنے انہی چند گھروں اور گلیوں کی محدود سی کائنات میں تلاش کر لیتے ہیں۔ میں اس کھڑکی سے باہر کا ‘منظر’ دیکھتے ہوئے ایسے کھو جاتا تھا جیسے کوئی شہزادہ اپنے قلعے نما محل کے سب سے بلند مینار پہ لہراتے جھنڈے کے ساتھ کھڑا دور تک پھیلی اپنے باپ کی سلطنت کا نظارہ کررہا ہو۔ قلعے کی فصیل پہ فخر سے اپنا دایاں پاؤں رکھے میں نیچے موجود اس گہری تنگ کھائی سے بھی بے خبر ہو جاتا تھا جس میں حفاظت کے طور پہ بڑے بڑے مگر مچھ چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔

ہمارے شہر کےچھوٹے سے اس محلے میں گھروں کی چھتیں اس طرح ساتھ ملی ہوئی تھیں کہ کھڑکی سے دیکھو تو سب چھتیں ایک ہی مکان کی لگتی تھیں لیکن ان مکانوں کے چھوٹے چھوٹے بنیرے بعض اوقات بلندی میں فصیلوں کو بھی مات دے جاتے ہیں۔
ان کچی پکی چھتوں پہ کودتے، پتنگ اڑاتے بچوں میں مجھے کبھی کوئی دلچسپی نہیں محسوس ہوتی تھی۔ میری اپنی دنیا میں اس سے کہیں زیادہ دلچسپیاں تھیں۔ ہاں، ان بغیر پلستر کی دیواروں والی چھتوں سے پرے ایک سبز بنیرے والی چھت تھی۔ اس چھت میں مجھے ہمیشہ کچھ خاص بات لگتی تھی۔ وہ چھت میری اس محدود سی دنیا کا دوسرا سِرا تھی۔ اس کھڑکی سے نظر آنے والے آخری کنگرے تھے وہ۔ اُس چھت کی ایک دیوار سے باہر کی طرف جھکی ہوئی انگور کی بیل کو دیکھ کر مجھے یقین سا ہو گیا تھا کہ اس محل نما گھر میں ہوا میں معلق باغات بھی ہیں۔ میرے نزدیک چھتوں اور دیواروں کے اس گنجل میں موجود وہ خوبصورت، نفیس اور کشادہ چھت کسی محل کی ہی ہو سکتی تھی۔

یوں تو برسات کے موسم میں میرے گھر والے پریشان ہی رہتے تھے۔ کبھی بارش کا پانی گلی میں کھڑا ہوتا تو کبھی چھتیں ٹپکنا شروع کر دیتیں لیکن میرے لئے برسات میں ایک خاص ہی کشش تھی۔ چھت کے پرنالے سے گلی میں گرتے اور نالیوں میں دوڑتے ہوئے پانی کی آواز اس کھڑکی سے گزر کر جب مجھ تک پہنچتی تو ایسے سنائی دیتی جیسے دور جنگلوں میں آبشاریں بہہ رہی ہیں۔ ویسے جنگل جیسے میری کہانیوں میں تھے، جن میں درندے نہیں بلکہ آسمان سے فرشتے اترتے تھے۔ ایسے میں ہوا میں معلق اس محل کے باغات کا تصور، (جو کہ اس کھڑکی کے ساتھ ہی مشروط تھا بالکل ایسے جیسے موجودہ دور میں آگمنٹیڈ ریئلیٹی!)۔

کشادہ چھت پہ ٹہلنے کا انجانا احساس، ممٹی کے نیچے بندھی پینگ پہ بیٹھنے کی خواہش، جو اکثر خالی ہی جھولتی رہتی تھی، مجھے اپنے گھر اور گھر والوں کے مسائل سے دور کر دیتی تھی۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ وہاں کون رہتا ہے، کب سے رہتا ہے، کب جائے گا، میں تو بس اس محل کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اس چھت پہ ٹہلنا چاہتا تھا۔ اپنی اس کھڑکی سے پرے ‘اپنی دنیا’ ایکسپلور کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اماں مجھے گلی میں زیادہ دیر نکلنے نہیں دیتی تھیں۔ سکول سے واپسی پر یا پرچون والے سے کوئی چیز لاتے ہوئے، اماں کی انگلی پکڑے میں اپنی گردن چاروں طرف گھماتا رہتا تھا اور نظریں ہمیشہ اس محل کے سنہری پھاٹک کو ڈھونڈتی تھیں۔

چھت پہ کھڑے ہو کر بھی میں نے کئی بار چھتوں کی ان بھول بھلیوں کو بازار اور گلیوں پہ مَیپ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی لیکن ہمیشہ اپنی اس تنگ خوفناک گلی سے باہر نکلتے ہی دنیا بدل جاتی تھی۔ وہ کھڑکی اور اس سے نظر آتا باہر کا منظر ہمیشہ ایک متوازی دنیا کی طرح میرے دماغ میں موجود رہا۔ البتہ یہ بتانا اب ذرا مشکل ہے کہ کب اور کیوں وہ کھڑکی ہمیشہ کیلئے بند ہوئی اور میرا بچپن بھی اسی کھڑکی سے باہر رہ گیا۔

انسان کے خواب ہمیشہ اس کے ساتھ جوان تو ہوتے ہیں لیکن اس وقت تک وہ بچپن کے خواب کی طرح آزاد نہیں رہتے۔ وہ گھر میرا خواب تھا۔

آج جب بیس سال بعد ہم ملے ہیں تو پوری رات گھر، محلے، شہر کی باتوں میں ہی گزر گئی۔ پاکستان سے باہر بسنے والے لوگ جب اپنوں سے بات کرتے ہیں تو پتا نہیں کہاں کہاں کی خبریں پوچھتے ہیں۔ اپنا حال چھپانے کی کوشش میں وہ اس کا حال بھی پوچھتے رہتے ہیں جس سے کبھی تعلق بھی نہ رہا ہو۔

جہاں آنکھیں صرف خواب ہی دیکھتی ہیں، وہاں ان کی ادھورے خوابوں کو پانے کی جدوجہد کون سننا چاہے گا۔ اپنے خوابوں کی تلاش میں میں نے کہاں کہاں کی خاک چھانی تھی، یہ راز میرے ساتھ ہی دفن ہونا ہے۔ میں خاموشی سے بس سن رہا تھا کہ وہ بولا: “تمہارے جانے کے چار سال بعد ہم نے محلے کا سب سے بڑا مکان خرید لیا تھا۔ وہی جو ہمارے اوپر والے کمرے کی کھڑکی سے نظر آتا تھا، جس کی سبز بنیروں والی چھت پہ ایک پینگ بھی لٹکی رہتی تھی۔”